پاکستانی ہوائی اڈوں پر سمارٹ اسکینر: سیکورٹی، سہولت اور عالمی معیارات کی سمت
KM Afaq ·
پاکستانی ہوائی اڈوں پر سمارٹ اسکینر: سیکورٹی، سہولت اور عالمی معیارات کی سمت — پاکستانی ہوائی اڈوں میں سمارٹ اسکینر نصب کرنے کا فیصلہ، سیکورٹی، سہولت اور عالمی معیار پر اس کے اثرات۔

مزید تفصیل: پاکستانی ہوائی اڈوں پر سمارٹ اسکینر: سیکورٹی، سہولت اور عالمی معیارات کی سمت
پاکستانی ہوائی اڈوں پر سمارٹ اسکینر: سیکورٹی، سہولت اور عالمی معیارات کی سمت
تعارف
دسمبر 2026 میں صدر محمد شیحاز شریف نے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سمارٹ اسکینر نصب کرنے کا حکم جاری کیا۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب وہ اسلام آباد میں ایک میٹنگ کے دوران کسٹم اور فری ٹریڈ بریکٹ کے عملے سے ملاقات کر رہے تھے۔ اس اقدام کا مقصد مسافروں کی سہولت بڑھانا، سیکیورٹی کو مضبوط بنانا اور پاکستان کو عالمی ایوی ایشن معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔
سیکیورٹی میں اضافہ
- خودکار اسکیننگ: سمارٹ اسکینر بیکجز کو خودکار طریقے سے اسکین کرتے ہیں، جس سے انسانی غلطیوں کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
- ریئل ٹائم ڈیٹا: ہر بیکج کا ڈیٹا فوری طور پر سسٹم میں محفوظ ہو جاتا ہے، جس سے خطرناک اشیاء کی شناخت میں دیر نہیں لگتی۔
- بین الاقوامی معیارات: یہ سسٹم عالمی سطح پر مستعمل سمارٹ اسکینر ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جس سے پاکستان کی سیکیورٹی پروٹوکولز عالمی معیار کے مطابق ہو جاتے ہیں۔
انتظار کے وقت میں کمی
- تیزی سے اسکیننگ: ایک ہی وقت میں کئی بیکجز کو اسکین کیا جا سکتا ہے، جس سے لائنوں میں انتظار کا وقت کم ہو جاتا ہے۔
- آٹومیٹڈ رپورٹنگ: اگر کوئی بیکج غیر قانونی مواد رکھتا ہے تو سسٹم فوری طور پر رپورٹ کر دیتا ہے، جس سے ہینڈ سکریننگ کا وقت کم ہو جاتا ہے۔
- مسافروں کی سہولت: کم وقت میں اسکیننگ کے باعث مسافر اپنی فلائٹ کے لیے وقت پر پہنچ سکتے ہیں، جس سے ان کے سفر کا تجربہ بہتر ہوتا ہے۔
عالمی ایوی ایشن معیارات کے ساتھ ہم آہنگی
- IATA اور ICAO کے تقاضے: سمارٹ اسکینر IATA اور ICAO کے حفاظتی معیارات پر پورا اترتا ہے، جس سے پاکستان کی ہوائی اڈے عالمی ایوی ایشن کمیونٹی میں قابل اعتماد بن جاتے ہیں۔
- بین الاقوامی شراکت: پاکستان کے ہوائی اڈے اب عالمی شراکت داروں کے ساتھ بہتر تعاون کر سکیں گے، کیونکہ سسٹم مشترکہ ڈیٹا اسٹینڈرڈز پر مبنی ہے۔
- سفر کے قوانین: جدید سمارٹ اسکینر کے ذریعے مسافروں کے لیے سفری قوانین کا اطلاق زیادہ شفاف اور موثر ہو جاتا ہے۔
عملی نفاذ اور اقدامات
- نصب کا شیڈول: ہر بین الاقوامی ہوائی اڈے میں سمارٹ اسکینر کی تنصیب 30 دن کے اندر مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
- تکنیکی ٹیم: ہر ہوائی اڈے پر ایک مخصوص تکنیکی ٹیم مقرر کی جائے گی جو سسٹم کی تنصیب، ٹیسٹنگ اور مینٹیننس کا ذمہ دار ہوگی۔
- سٹاف ٹریننگ: سمارٹ اسکینر کے استعمال میں ماہر عملہ تیار کرنے کے لیے 20 گھنٹے کی ٹریننگ پروگرامز منعقد کیے جائیں گے۔
- سائبر سکیورٹی: سسٹم کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے سائبر سکیورٹی پروٹوکولز اپ ڈیٹ کیے جائیں گے۔
- مانیٹرنگ: تنصیب کے بعد ہر سسٹم کی کارکردگی کو ہفتہ وار بنیاد پر مانیٹر کیا جائے گا تاکہ کسی بھی خرابی کا فوری حل نکالا جا سکے۔
ممکنہ چیلنجز اور خطرات
- ابتدائی لاگت: سمارٹ اسکینر کے لیے ابتدائی سرمایہ کاری زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ خرچ کم ہو جائے گا۔
- مینٹیننس اور اپ گریڈز: سسٹم کی مسلسل مینٹیننس اور اپ گریڈز کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے مخصوص بجٹ مختص کیا جائے گا۔
- ٹیکنالوجی کا اعتماد: اگر سسٹم میں کوئی تکنیکی خرابی ہو تو مسافروں کے لیے اسکیننگ میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
- سائبر سکیورٹی خطرات: ڈیٹا سسٹم پر ہیکنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے مضبوط سائبر سکیورٹی اقدامات ضروری ہیں۔
- قانونی مسائل: سمارٹ اسکینر کے استعمال سے متعلق مقامی قوانین اور پرائیویسی کے مسائل پر واضح رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
اگلے اقدامات
- پائلٹ ٹیسٹ: پہلے دو بڑے ہوائی اڈوں پر پائلٹ ٹیسٹ کے بعد سسٹم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
- فیڈ بیک میکانزم: مسافروں اور عملے سے فیڈ بیک لینے کے لیے ایک آن لائن پلیٹ فارم قائم کیا جائے گا۔
- کارکردگی کا جائزہ: ہر تین ماہ بعد سسٹم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر ضروری ہو تو سسٹم میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔
- پبلک ایڈوکیشن: مسافروں کو سمارٹ اسکینر کے فوائد اور استعمال کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے گی۔
نتیجہ
صدر شیحاز شریف کا یہ فیصلہ پاکستان کے ہوائی اڈوں کو نہ صرف زیادہ محفوظ بنائے گا بلکہ مسافروں کے لیے سفر کو بھی آسان اور خوشگوار بنائے گا۔ سمارٹ اسکینر کے ذریعے سیکورٹی اور سہولت دونوں میں نمایاں بہتری آئے گی، اور پاکستان عالمی ایوی ایشن معیارات کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہو جائے گا۔
خلاصہ
پاکستان کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سمارٹ اسکینر نصب کرنے کا فیصلہ ایک اہم قدم ہے۔ یہ اقدام سیکیورٹی کو مضبوط بنائے گا، انتظار کے وقت کو کم کرے گا اور عالمی معیارات کے ساتھ ہم آہنگی کو یقینی بنائے گا۔ اس کے عملی نفاذ کے لیے واضح منصوبہ بندی، سٹاف ٹریننگ اور مسلسل مانیٹرنگ ضروری ہے۔
Original source or publisher — consult this source for current information.